گاڑی کے ٹائر نہیں ہوتے


سعید صاحب اپنی نہ ماننے والی عادت کی وجہ سے بہت مشہور تھے، کوئی بھی کتنی دلیل سے ، سمجھا کے ، ثبوت کے ساتھ بات کرتا پر انہوں نے کبھی ایسی بات کا اقرار نہ کیا جس پر وہ اٹکے ہوتے، ایک دفعہ ان کے ایک دوست حامد صاحب نے دل میں عہد کیا کہ وہ ان کی یہ عادت تڑوا کر ہی رہیں گے، چنانچہ حامد صاحب نے سعید صاحب سے کہا جناب آپ کو معلوم ہے گاڑی کیسے چلتی ہے
سعید صاحب نے جواب دیا، نہیں
حامد صاحب : گاڑی پر جو پہیے اور ٹائر لگے ہوتے ہیں نہ ان سے چلتی ہے
سعید صاحب : نہیں جناب گاڑی میں ٹائر کہاں ہوتے ہیں، گاڑی تو بنا ٹائر کے چلتی ہے
حامد صاحب : چلیے میرے ساتھ میں آپ کو ابھی گاڑی کے ٹائر دکھاتا ہوں
سعید صاحب :‌ چلیں
حامد صاحب ان کو قریبی سڑک پر لے آتے ہیں اور گزرتی ہوئی کچھ کاروں کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور فاتحانہ انداز سے کہتے ہیں یہ دیکھیے یہ جو سوزوکی مہران آ رہی ہے اس میں کالے کالے گول ٹائر لگے ہوے ہیں، جن پر یہ گاڑی چل رہی ہے۔
سعید صاحب گاڑی کو دیکھتے ہوے حیرانی سے سعید صاحب کی طرف مڑے اور کہا، جناب گاڑی کے ٹائر نہیں‌ہوتے، آپ کیوں ضد کر رہے ہیں
حامد صاحب کا چہرہ لال ہوگیا، خیر وہ پلٹ آئے اور پارکنگ میں کھڑی ایک گاڑی کے بالکل قریب پہنچ گئے، گاڑی کے پہیے کی طرف اشارہ کیا اور کہا، یہ دیکھیے، یہ ہیں ٹائر، میں جیت گیا، اب تو آپ کو ماننا ہی پڑے گا
سعید صاحب مسکرائے اور کہا، آپ میری بات کیوں نہیں‌مانتے، میں نے کہا نا ، گاڑی کے ٹائر نہیں ہوتے
حامد صاحب کا چہرہ غصے سے تپ اٹھا، ان کی آنکھیں غصے سے باہر آنے لگیں، وہ گاڑی کے قریب بیٹھ گئے ٹائر پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ دیے اور کمزور آواز میں کہا، یہ گاڑی کے ٹائر ہیں، کیا اب بھی آپ انکار کریں گے ؟
سعید صاحب ، میرے دوست میرے بھائی حامد، نہیں ہوتے ٹائر گاڑی میں ، مان جاؤ میری بات
حامد صاحب سڑک پر سے اٹھے اور کہا شاید آپ ٹھیک کہتے ہیں ، گاڑی میں واقعی ٹائر نہیں ہوتے


About Yasir Imran

Yasir Imran is a Pakistani living in Saudi Arabia. He writes because he want to express his thoughts. It is not necessary you agree what he says, You may express your thoughts in your comments. Once reviewed and approved your comments will appear in the discussion.
This entry was posted in Features, Urdu and tagged , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

4 Responses to گاڑی کے ٹائر نہیں ہوتے

  1. عبدالعزیز says:

    جیسے اپنے درانی صاحب ہوتے تھے اب ان کی جگہ دوسرے وزرا نے لے لی ہے
    سچ کہتے ہو تم

  2. حمید خان says:

    میرا ذاتی خیال یہی ہے کہ گاڑی میں ٹائر نہیں ہوتے، یاسر صاحب کیوں ٹینشن لے رہے ہیں، یہ سب تو ایسے ہی چلتا رہے گا۔

  3. khalid bashir says:

    jhout itna bolo k woh sach lagnay lagay. yahan b yahi qisa hai

  4. یار گاڑی میں کب ہوتے ہیں وہ تو گاڑی سے باہر ہوتے ہیں

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s