غیر پیشہ ورانہ اور اخلاق سے عاری پاکستانی ورکرز


بحثیت مجموعی میں پاکستانی قوم کو برا نہیں کہہ رہا لیکن ان افراد کا ذکرکر رہا ہوں جو پردیس میں اپنے وطن کے بے عزتی کا باعث بنے ہوے ہیں۔ آج صبح میرے کمرے کا اے سی خراب ہو گیا، ایک صاحب جو میرے کمرے کے قریب ہی اے سی مرمت کی دکان چلاتے ہیں۔ ان صاحب سے رابطہ کیا، وہ فورا ہی تشریف لے آئے اور بنا دیکھے کہا کہ اے سی کی صفائی ہونے والی ہے۔ میں نے کہا کیا صفائی سے سارے مسئلے حل ہو جائیں گے ؟ اسکا پنکھا آواز بھی کر رہا ہے شاید بیرنگ کا مسئلہ ہو، کہنے لگے جی دیکھ لیں گے، فی الحال اسے اتارنا پڑے گا۔ میں‌نے کہا اچھا لے جائیے۔ پھر پوچھا کہ کب تک مرمت کر دیں گے، کہنے لگے کہ ظہر کی نماز سے قبل، میں نے کہا اچھا ظہر سے پہلے پکا کر دیجیے گا، کیوں کہ میں نے آفس بریک ٹائم میں کمرے میں آ کر آرام کرنا ہوتا ہے، کہنے لگے آپ فکر نہ کریں۔دن ڈیڑھ بجے بریک ہو جاتی ہیں، میں نے ان صاحب کو بریک سے کچھ پہلے فون کر کے پوچھا کہ اے سی ٹھیک ہو گیا تو کہنے لگے میں دکان سے باہر ہوں دکان پر فون کر کے کہتا ہوں، انہوں نے ٹھیک کر دیا ہو گا ابھی لگا جائیں گے۔ پھر میں کمرے میں‌چلا گیا، لیکن نہ وہ صاحب واپس آئے نہ ان کے شاگرد، بریک کا سارا وقت گرمی میں گزارا۔ شام 5 بجے ان صاحب نے فون کیا کہ کمرے میں آئیں، ہم اے سی ٹھیک کر کے لے آئے ہیں، میرا کمرہ دفتر کے قریب ہی ہے اسلیے میں فورا چلا گیا، اور ان سےپوچھا آپ ظہر کے وقت کیوں نہیں آئے تو بولے یار نہیں ہوا ٹھیک تو کیسے آتے، میں پھر چپ کر گیا۔
خیر میں نے ان کو کمرا کھول کر دیا اور کہا میں دفتر جاتا ہوں، آپ جب جانے لگیں مجھے فون پر بتا دیں تو میں آ کر روم کوتالا لگا لوں گا۔ جب لگا کر وہ جانے لگے تو میں کمرے میں گیا، دیکھا تو قالین پر جگہ جگہ گندے جوتوں‌کے نشان لگے ہیں، اے سی سے نکلا ہوا بدبو دار پانی قالین پر گرا ہوا ہے، اے سی اور اسکے کے ریموٹ پر گریس کے کالے داغ لگے ہوے ہیں اور کمرے میں سلوشن ٹیپ، تاروں کے ٹکڑے اور کچھ اور گند گرا ہوا ہے۔ بہت غصہ آیا، مگر چپ کر گیا، پھر وہ صاحب اور انکا شاگرد باتھ روم گھسے ہاتھ دھونے کے لیے، صابن، بیسن، ٹونٹی اوردروازے پر ہاتھ لگا کر ہر جگہ داغ لگا دیے۔
شایہ آپ لوگوں کو یہ عام سی باتیں لگیں، مگر یہاں کا ماحول بہت صاف ستھرا ہے، مقامی رہائشی فلپائن کے افراد کو کسی بھی کام کے لیے زیادہ پسند کرتے ہیں کیوں کہ وہ لوگ ایک تو صاف رہتے ہیں دوسرا ان کے اندر تہذیب، اچھی عادات اور تمیز کی موجود ہوتی ہے۔ حتی کہ انڈیا کے ٹیکنشن بھی اگر کسی کے گھر کام کرنے جائیں تو صاف ستھرے طریقے سے کام کرتے ہیں، کام کے دوران جو کچرا بنتا ہے اسے ساتھ ساتھ اٹھاتے رہتے ہیں۔ نیز اگر اندرونی مرمت کا کام بھی ہو تو کام ختم ہونے کے بعد چیز کی باہر والی سطح بھی صاف کر دیتے ہیں۔ جب کہ زیادہ تر پاکستانی تہذیب اور اخلاق سے ناآشنا ہیں اور ان کی اکثر شکایتیں آتی رہتی ہیں، ابھی کچھ دن پہلے میرے بھائی کے گھر پر اے سی ٹیکنشن آئے، وہ بھی پاکستانی تھے، جب انہوں نے اے سی باہر نکالا تو ان کو معلوم بھی تھا کہ اس میں سے گندا پانی نکلے گا، مگر انہوں نے نہ تو میٹرس خود ہٹایا، نہ ہمیں ہٹانے کا کہا اور پورا بستر پانی پانی کر دیا۔ میرا دل کیا کہ ان صاحب کو ایک لگائوں پر چپ کر گیا، پاکستانی ایک تو پڑھے لکھے کم ہیں دوسرے ان میں اخلاقیات کی بھی شدید کمی ہے۔ ایک تو ان صاحب نے مقررہ وقت پر کام مکمل نہیں کیا، اگر نہیں کرنا تھا تو پہلے وعدہ ہی نہ کرتے۔ دوسرے میرا کمرہ بدنما کر گئے۔ لیکن یہ لوگ یہ نہیں سوچتے کہ جب ایک دفعہ یہ لوگ ایسی حرکات کرتے ہیں تو دوسرے دفعہ کوئی ان کو کام کے لیے نہیں بلائے گا۔
ملاحظہ: یہ تحریر تمام پاکستانیوں پر لاگو نہیں ہوتی،جس طرح ہاتھ کی سبھی انگلیاں برابر نہیں ہوتیں اس طرح کسی قوم، ملک یا شہر کے لوگ بھی ایک جیسے نہیں ہوتے۔


About Yasir Imran

Yasir Imran is a Pakistani living in Saudi Arabia. He writes because he want to express his thoughts. It is not necessary you agree what he says, You may express your thoughts in your comments. Once reviewed and approved your comments will appear in the discussion.
This entry was posted in Features, Personal, Urdu and tagged , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

8 Responses to غیر پیشہ ورانہ اور اخلاق سے عاری پاکستانی ورکرز

  1. Mai Yasir Sai 100% Mutafiq Hu Waqi Bilqul Thek Likha Hai Ku K Main Khud is Terha Ki Sourat a Hal Sai Dochar Ho Chuka Hu. Wahan Zyada Ter Pakistani Zara Bhi Apne Mulak Ki Ezat Ka Khiyal Nahi Karte.

  2. خرم says:

    عمومی رویہ تو یہی ہے ہمارا بدقسمتی سے بھیا۔ اور اگر آپ کسی کو کچھ کہیں تو غیر محب وطن ہونے کا سرٹیفیکیٹ چسپاں کردیا جائے گا آپ پر۔

  3. کامی صاحب
    شکریہ

    خرم صاحب
    کوشش تو یہی ہے کہ ہم وطنوں کی غلطیوں کی نشاندہی کروں ، اب ہم وطن اگر غیر محب وطن ہونے کا سرٹیفیکیٹ دیتے ہیں تو کیا کر سکتا ہوں

  4. اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں اخلاقی تربیت کے ادارے تباہ ہو چکے ہیں۔ ہمیں اس پر توجہ دینی چاہیے کہ اخلاقی تعلیم و تربیت کو اپنی جدوجہد کا مرکز بنائیں۔

  5. تو نے ہتھ ہولا رکھا ورنہ میرے خیال میں تو بحیثیت مجموعی نہیں تو اکثریت میں ہی پاکستانی قوم بد تمیز اور بدتہزیب ہے۔ فلپینیوں کی اس صفائی والی عادت سے تو میں واقعی بہت متاثر ہوں۔ ہوتے حرامی ہیں وہ لوگ (اور لوگیاں بھی) لیکن “سلیقہ مند” لفظ ان پہ ایک دم فٹ بیٹھتا ہے

  6. javediqbal26 says:

    بیشک بات دراصل آپکی بالکل ٹھیک ہے لیکن ان لوگوں کارویہ دراصل ایساکیوں ہوتاہے دراصل اس کے پیچھےہم لوگوں نے جھانکنےکی کبھی کوشش نہیں کی ہے اورواقعی میں دراصل ایک تو گرمیوں میں آپ کو پتہ ہے کہ ان کا سیزن ہوتاہے اوردوسراکام کابہت زیادہ بوجھـ ہوتاہے باقی انڈین اوربنگالی بھی تقریبا ایسے ہی کمالات کرتےہیں لیکن پاکستانی اس معاملےمیں ان سے آگےہیں کیونکہ اخلاقی تربیت گھرسےشروع ہوتی ہے اوردوستوں کے میل جول اورمعاشرےکےلوگوں سے ملنے سے اس کی تربیت ہوتی ہے ۔ اللہ تعالی سے دعاہے کہ ہم کوصحیح اخلاق عطاء فرمائیں۔ آمین ثم آمین

  7. Ha ha ha ha … bilkul baja farmaya … in logo mein zarra bhi aqal aur tehzeib jaisy koyi cheez ahi hai … mera bhi kch aisa hi experience hai … Office se le kar ghar k kamo tak sab mein pehly priority mein apny logo ko deta tha … magar har dafah hi inho ne mayoos kiya hai … ab mein apny colleague (INDIAN mostly) se yeh kehny par majboor hn kh tum log sahi kehty ho … hum log aisy hi hain …karty is trah ke log hai aur bharna hum ko parta hia … halankeh pehly mein defend karta tha par in ki harkatoon ne majboor kar diya hai … gari bhi theek karwani ho to PAKISTANI ke pass mein nahi jata kaam koyi aur karwany jao aur kharabiyan kch aur nikal detay hai … ALLAH hi rehm kary humari qoum par kyn kh hum ne khudh to kch nahi karna ….

  8. habeeb says:

    سلام عليكم
    پيارے بهائيو ميں ايك انڈين حيدرابادى هوں اس سے پهلے كه ميں اپنے پاكستاني بهائيوں كے بارے ميں كچه كهوں ميں انڈين حيدارباد كے بارے ميں كچه بتادوں ,,,,, انڈيا كے هر كونے ميں حيدراباد كو چهوٹا پاكستان كها جاتا هے,, اس كي بهت سے وجوهات هيں كچه تو يه هيں كه
    1 جب انڈيا انگريزوں كے چنگل ميں تها تو حيدراباد دكن ايك آذاد مسلم مملكت تهى اور بهت امير تهى جس كو اسوقت سونے كى چڑيا بهى كهها جاتا تها
    2 اس مملكت كے تعلقات انگريزوں كے ساته دوستانه اور تاجرانه تهے
    3 جب پاكستان بنا تو كههتے هيں كے كئي سال تك حيدراباد كے بادشاه كيطرف سے پاك حكومت كى مدد جارى رهى اوربهى بهت سى باتيں ايسى رهيں جو هم حيدراباديوں كو پاكستان سے منسلك كرنے والي هيں,
    وقت گذرتا گيا اور آج حيدراباد مكمل طور پر انڈيا كے قبضے ميں هے مگر تاريخ كا رشته حيدراباديوں كے خون سے نكلا نهيں , چنانچه جب هم هوش سنبهالے تو اپنے بڑهوں كو كركٹ ميج ميں پاكستان كى جيت ميں مٹهائياں بانٹتے اور پٹاخے پهوڑتے هوئے پائے, پاكستان كى هر بڑى سے بڑى اور چهوٹى سے چهوٹى اچهائى كى حد سے زياده تعريف كرنا
    گهر كے هر فرد اور بچوں ميں پاكستانى كهلاڑيوں كى ايسى پهچهان جيسے كوئى اپنے بهائيوں كو پهچهانتا هو جب كه هندوستانى هونے باوجود هميں انڈين ٹيم ميں اظهرالدين يا سچن تندولكر كے علاوه كسى اور كے بارے زيادة معلومات نهيں تهيں
    كركٹ ميں پاكستان كى جيت پر پٹاخے جلانا هندو مسلم فساد كا سبب بهى بن جاتا هے
    اسكولس مكمل اردو ميڈيم جس ميں هم كو آٹهويں جماعت ميں هى علامه اقبال كي صرف نظميں هى نهيں بلكه مجموعات ياد هو چكے هو تے تهے (جيسے شكوه جواب شكوه, بانگ دره وغيره)؟
    بهر حال جب تك ميں حيدراباد ميں تها ميرے لئے پاكستان تخيلاتى خوابوں كا ملك اور وهاں كے لوگ معزز اور احترام كى معراج والے لوگ تهے
    مگر ميرا يه خيال اس وقت چور چور هو گيا جب ميں سعودى عرب آيا اور ميرا سامنا ان آسمانى هستيوں كے ساته هوا
    ميں نيا نيا مكه مكرمه ميں تها اور ميرا كام 2 بجے ختم هوجاتا تو ميں شام تك گهر سے حرم شريف آجاتا اور كسى بهى حاجى كو كسى بهى قسم كى رهنمائى كى ضرورت هوتى تو ميں كرتا تها
    ايك دفعه ايسے هى ايك مصرى جوڑا عمره كرنے كے بعد كمرے كى تلاش ميں تها اور ميں ان كو ليكر ايك پاكستانى آدمى كے پاس گيا جو حرم كے قريب كمرے دلاتا تها جب اس سے پيسے بارے ميں معاملت طے نهيں هوئى تو مصرى جوڑا واپس جانے لگا تو وه پاكستاني ان دونو كو مخاطب هو كر كهنے لگا كه تم دونو كو كمرے ميں كرنا كيا هے پهر اس نے اتني گندى بات كهى كه ميرا سر چكرا گيا مجهے يقين نهيں آرها تها كه ميں حرم شريف كے بازو هوں اور ايسى بات سن رها هوں
    پهر كچهه هى هفتوں ميں ايسے الگ الگ باتيں ديكهنے كو ملى جو مجهے طلسماتي ملك كے تصور سے نكال رهى تهيں
    پهر ميرے دل ميں اس خوابوں والے پاكستان اور لوگ اور يه حقيقى پاكستانى لوگو ميں جنگ شروع هوگئى ميں هميشه اپنے آپ كو يقين دلاتا رها كه ميں جو بهى ديك رها هوں وه كرنے والے افراد هيں نه كه مجموعى پاكستان اور پاكستان ويسا هى ملك هے جيسا ميں سوچتا هوں
    ميں جب بهى جدة ميں اپنى اهليه كے ساته كسى ٹكسى ميں بيٹهتا هوں اور اسكا ڈرائيور اگر پاكستانى هو تو زياده تر ايسا هوا هے كه وه ڈرائيور كوئى ايسى گندى بات يا موضوع نكالنے كى كوشش كرتا هے جو عورتوں كے ساته بيٹهكر نهيں كى جاسكتى اسطرح مجهے بهت سختى سے اسے روكنا پڑتا هے اور ايك بار تو مجهے سخت دهوپ ميں ويران سڑك پر اپنى بيوى اور دو چهوٹے بچوں كے ساته ٹكسى سے اترنا پڑا
    ميں اپنے تمام پاكستانى بهائيوں سے كههتا هوں هندوستان اور پاكستان كے بيچ كى لكير كافروں كى دالى هوئى هے جبكه همارے نبى صلى الله عليه وسلم كى حديث هے
    كه دنيا كے تمام مسلمان ايك جسم هيں
    لهذه ميں بهى آپ لوگوں كا بهائى هوں غير نهيں
    ياد ركهيں يه مضمون پڑهتے وقت شيطان هم كو انڈين يا پاكستانى نه بنا ڈالے
    بلكه هم سب مسلمان ايك جسم هيں
    خود كے ساته ساتهه اپنے بچوں كو بهى سختى سے اخلاق پر عمل پيرا كرائيے
    الله آپ كو اور مجهے صراط مستقيم پر چلائے
    آمين

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s