اور ہم کہتے ہیں کہ ہم بہت محنت کرتے ہیں


کل یہ تصاویر مجھے ایک ای میل میں موصول ہوئیں، دیکھ کر دل دہل گیا کہ خلق خدا پر حیات کس قدرمشکل ہے ۔ یہ تصویریں جب آرٹ گیلری میں سجی ہوں گی تو دیکھنے والوں نے کہا ہو گا، واہ کیا تصویر ہے، کیا فوٹو گرافی ہے اور فوٹو گرافر نے یقینن انعام بھی وصول کیا ہو گا مگر کیا کسی نے یہ بھی سوچا ہو گا کہ غربت کی جس چکی میں یہ بچے پس رہے ہیں اس سے ان کو نکالنے کا بھی کوئی بندوبست کیا جائے

ان تصویروں کو دیکھیں اور اندازا کریں آپ کی زندگی کس قدر آسان ہے اور اللہ تعالی نے آپ کو کتنی نعمتوں سے نوازا ہے، امید ہے پھر آپ اللہ سے شکایت نہیں کریں گے

Child-Labor

Child-Labor

Child-Labor

Child-Labor

Child-Labor

Child-Labor

Child-Labor

Child-Labor

Child-Labor

Child-Labor

Child-Labor

Child-Labor

Child-Labor

Child-Labor

Child-Labor

Child-Labor

Child-Labor

Child-Labor

Child-Labor

Child-Labor

Child-Labor

Child-Labor

6 Comments

  1. yasir shirazi said,

    June 23, 2009 at 12:21 pm

    aaaah ya khuda hum sab ko himat ataa kar k hum apni qoom k bachooo ko acha mustakbil de sakain..

  2. فیصل said,

    June 23, 2009 at 12:59 pm

    واقعی انتہائی افسوس کا مقام ہے۔ مجھے اپنے آپ سے شرم آ رہی ہے۔

  3. June 23, 2009 at 2:11 pm

    جن لوگوں نے ان تصاویر کی نمائش کر کے ڈالر وصول کئے ہیں انہوں نے اس میں سے کتنے ان بچوں کے خاندانوں میں تقسیم کئے ہیں ؟
    يہ بچے اپنے مُفلس خاندان کے لئے ایک آدھ وقت کی سوکھی روٹی کماتے ہیں ۔ زمین پر سوتے ہیں اور گرمی کی تپش برداشت کرتے ہیں ۔ جنہوں نے ان تصاویر کی نمائش کی ہے وہ ایئرکنڈیشنڈ گھروں میں رہتے ہوں گے ۔ اور ایئرکنڈیشنڈ کاروں میں گھومتے ہوں گے اور فائیو سٹار ہوٹلوں میں کھانا کھاتے ہوں گے ۔ وہ اپنی دولت میں سے کچھ ان بچوں پر خرچ کیوں نہیں کرت ؟

  4. Yasir Imran said,

    June 23, 2009 at 7:03 pm

    افتحار انکل
    بس دولت جمع کرنے کی حوس ہے لوگوں کو، خرچ کرنے والے کم کم ہیں، مگر ہیں ضرور ، شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارا معاشرہ قائم و دائم ہے

    فیصل صاحب میں آپ سے اتفاق کرتا ہوں

    یاسر شیرازی صاحب اللہ آپ کی دعا قبول فرمائے

  5. June 25, 2009 at 6:22 am

    میں چھوٹا تھا اس زمانے میں پی ٹی وی پر ایک ڈراما آیا تھا جس میں ایک مصور، ایک ڈاکٹر اور ایک مصنف نے فن پارے، تحقیق اور تحریر پر اعلی اعزازات حاصل کیے تھے۔ ان تینوں کا موضوع ایک فقیر خاتون تھی۔ یعنی مصور نے اس کی تصویر بنائی تھی، ڈاکٹر نے اس کو لاحق بیماری کے علاج میں اہم تحقیق کی اور مصنف نے اس پر تحریر لکھی تھی۔ جب یہ تینوں اپنے “کارنامے” کے اعزاز حاصل کر رہے تھے تو وہی فقیرنی اسی ہال کے باہر بھیک مانگ رہی تھی اور بالآخر وہی مر گئی۔
    اس طرح کی کئی تصاویر روزانہ ہماری نظروں کے سامنے سے گزرتی ہیں۔
    بس ‘بے حسی’ کی خیر ہو ۔۔۔ ۔۔۔۔۔

  6. October 29, 2009 at 8:38 am

    ye hi to dunya hai bhai
    ye sab chalta aaraha hai
    chalta hi rahe ga

    kisi ko de kr aazmaya ja raha hai
    to kisi ko na de kr

    jis ko dia hai wo dosron ko kia deta hai
    or jis ko nai dia to kia wo cheen leta hai dosron se k is pr hi shakir hai

    sab aazmaish k khel hain

    Allah hum sab k dil mai Reham or Fikar ata kary


Post a Comment