شوقِ رقص سے جب تک انگلیاں نہیں کھلتیں
پاؤں سے ہواؤں کے، بیڑیاں نہیں کھلتیں
پیڑ کو دعا دے کر، کٹ گئی بہاروں سے
پھول اتنے بڑھ آئے کھڑکیاں نہیں کھلتیں
پھول بن کر سیروں میں اور کون شامل تھا
شوخیء صبا سے تو بالیاں نہیں کھلتیں
حسن کے سمجھنے کو عمر چاہیے جاناں
دو گھڑی کی چاہت میں لڑکیاں نہیں کھلتیں
کوئی موجہء شیریں چوم کر جگائے گی
سورجوں کے نیزوں سے سیپیاں نہیں کھلتیں
ماں سے کیا کہیں گی دکھ ہجر کا کہ خود پر بھی
اتنی چھوٹی عمروں کی بچیاں نہیں کھلتیں
شاخ شاخ سرگرداں کس کی جستجو میں ہیں
کون سے سفر میں ہیں تتلیاں نہیں کھلتیں
آدھی رات کی چپ میں کس کی چاپ ابھرتی ہے
چھت پہ کون آتا ہے، سیڑھیاں نہیں کھلتیں
پانیوں کے چڑھنے تک حال کہہ سکیں اور پھر
کیا قیامتیں گزیریں، بستیاں نہیں کھلتیں
شاعرہ: پروین شاکر







ہمارے خیال میں یہ غزل پروین شاکر ہے۔ ویسے اگر اشعار اپنے نہ ہوں تو شاعر کا نام لکھ چاہیے تا کہ پڑھنے والے کو کوئی غلط فہمی نہ ہو۔
جن لوگوں نے ان تصاویر کی نمائش کر کے ڈالر وصول کئے ہیں انہوں نے اس میں سے کتنے ان بچوں کے خاندانوں میں تقسیم کئے ہیں ؟
يہ بچے اپنے مُفلس خاندان کے لئے ایک آدھ وقت کی سوکھی روٹی کماتے ہیں ۔ زمین پر سوتے ہیں اور گرمی کی تپش برداشت کرتے ہیں ۔ جنہوں نے ان تصاویر کی نمائش کی ہے وہ ایئرکنڈیشنڈ گھروں میں رہتے ہوں گے ۔ اور ایئرکنڈیشنڈ کاروں میں گھومتے ہوں گے اور فائیو سٹار ہوٹلوں میں کھانا کھاتے ہوں گے ۔ وہ اپنی دولت میں سے کچھ ان بچوں پر خرچ کیوں نہیں کرت ؟
افتحار انکل
آپ کا کمنٹ غلطی سے دو جگہ چپ گیا شاید، خیر کوئی بات نہیں
افضل صاحب، اصل میں مجھ خود شاعر کا نام نہیں پتا تھا، اسلیے نہیں لکھا، معذرت چاہتا ہوں
Lost Love, Pain and Unfulfilled desires….Her inspiration for writing…Inspiration can come from negative stuff too….