مشرف كي تقرير


ایک گھنٹے کے خطاب میں لال مسجد کی کاروائی کا کوئی ذکر نہیں تھا

صدر پرویز مشرف کی آخری تقریر میں زیادہ تر زور اس بات پر رہا کہ ان کے دور میں معاشی ترقی کے لیے کیا کوششیں ہوئیں۔لیکن بعض اہم موضوعات ان کے خطاب سے یکسر غائب تھے۔مثلاً گزشتہ برس نو مارچ کے بعد عدلیہ کے سلسلے میں انہیں انتہائی اقدامات کیوں کرنے پڑے اور نومبر میں ایمرجنسی لگانے کا جواز کیا تھا۔اس بارے میں انکی تقریر میں ایک لفظ نہیں تھا۔حالانکہ یہی دو اقدامات تھے جو بالآخر ان کے زوال کا سبب بنے۔

اسی طرح مشرف حکومت نو برس تک یہ کریڈٹ لیتی رہی کہ وہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں ایک بنیادی کردار ادا کرتی رہی ہے۔لیکن نہ تو صدر مشرف نے اس بنیادی کردار کا کوئی حوالہ دیا اور نہ ہی اس کردار کے نتیجے میں اندرونِ ملک بالخصوص قبائلی علاقوں میں طالبان تحریک کے فروغ یا دہشت گردی کی مسلسل لہر کی روک تھام کے لیے اپنی کامیابی یا ناکامی کے بارے میں بات کی۔بس اتنا کہا کہ نائن الیون کے بعد دہشت گردی نے ایک نیا رخ اختیار کرلیا ہے جسے روکنے کے لیے لوگوں کو عسکری اداروں کا ساتھ دینا چاہیے۔

لال مسجد کی کارروائی پر مشرف حکومت پر آج تک انگلیاں اٹھ رہی ہیں۔اور اس کارروائی کے بعد دہشت گردی کی لہر مزید پھیلی۔لیکن ایک گھنٹے کے خطاب میں اس بارے میں کوئی حوالہ نہیں ملتا۔

ایٹمی سائنسداں ڈاکٹر قدیر اور انکے نیٹ ورک کے بارے میں صدر مشرف اکثر یہ کہتے تھے کہ اس نیٹ ورک کے خلاف کاروائی کرکے انہوں نے پاکستان کو عالمی دباؤ سے بچائے رکھا۔لیکن آج کی تقریر میں اس کامیابی کا تذکرہ نہیں تھا

صدر مشرف پر گزشتہ ہفتے آصف علی زرداری نے یہ الزام لگایا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی مد میں پاکستان کو اربوں ڈالر کی جو امداد ملی ہے اس میں سے بیشتر رقم کا کوئی حساب کتاب نہیں ہے جبکہ فوج کو اس امداد میں سے صرف پچاس کروڑ ڈالر کے لگ بھگ ملے۔اسی طرح زلزلہ زدگان کی امداد کے لیے جو چھ ارب ڈالر سے زائد موصول ہوئے ان کے خرچ کے بارے میں بھی وقتاً فوقتاً انگلیاں اٹھائی جاتی رہی ہیں۔صدر مشرف اس بارے میں اپنی وضاحت پیش کرسکتے تھے لیکن وہ اس موضوع پر نہیں آئے۔

جب پرویز مشرف اقتدار میں آئے تو انہوں نے نعرہ لگایا تھا کہ وہ صوبائی ہم آہنگی اور فیڈریشن کے استحکام کے لیے ترجیحاتی کوششیں کریں گے۔تاہم وفاق کا ایک یونٹ بلوچستان ان کے پورے دور میں بدامنی کا شکار رہا اور اکبر بگٹی کی ہلاکت کا بھی واقعہ ہوا۔

سینکڑوں لوگ لاپتہ ہوگئے اور ہزاروں نے نقل مکانی کی۔تاہم صدر مشرف نے اپنی الوداعی تقریر میں بلوچستان کے تعلق سے صرف یہ جملہ کہا کہ ہم نے کراچی سے گوادر تک کوسٹل ہائی وے بنوائی۔

ایٹمی سائنسداں ڈاکٹر قدیر کے قضیے کا بھی کوئی تذکرہ نہیں تھا

ایٹمی سائنسداں ڈاکٹر قدیر اور انکے نیٹ ورک کے بارے میں صدر مشرف اکثر یہ کہتے تھے کہ اس نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرکے انہوں نے پاکستان کو عالمی دباؤ سے بچائے رکھا۔لیکن آج کی تقریر میں اس کامیابی کا تذکرہ نہیں تھا۔

صدر مشرف اپنے پورے دور میں مسلسل یہ کریڈٹ لیتے رہے کہ پاک بھارت تعلقات ان کے دور میں جتنے بہتر ہوئے پچھلے کسی دور میں ایسی مثال نہیں ملتی۔تاہم انہوں نے اپنی اس کامیابی کا تذکرہ کرنے سے بھی گریز کیا اور بس یہ جملہ کہا کہ دوہزار ایک میں انہوں نے وہ بحران کامیابی سے ٹالا جو سرحدوں پر بھارتی فوج کے دس ماہ کے اجتماع کے سبب پیدا ہوا تھا۔

انہوں نے بلدیاتی نظام کے تجربے کا تو کریڈٹ لیا اور یہ بھی کہا کہ جو بھی اس نظام کو نقصان پہنچائے گا وہ دراصل ملک کو نقصان پہنچائے گا تاہم انہوں نے شوکت عزیز سمیت اپنے کسی بھی وزیرِاعظم کو کوئی کریڈٹ دینے سے گریز کیا اور نہ ہی صدارتی ریفرینڈم یا دو ہزار دو کے انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والے متنازعہ جمہوری ڈھانچے کا دفاع کرنے کی کوشش کی۔

ماضیِ قریب کی ہر تقریر یا پریس کانفرنس کے برعکس یہ حوالہ بھی نہیں دیا کہ وہ ایک ایسے صدر ہیں جنہیں سابقہ پارلیمنٹ نے پانچ برس کی دوسری مدت کے لیے چنا تھا۔

کرپشن میں کمی کا انہوں نے سرسری تذکرہ کیا لیکن این آر او کے حق میں یا خلاف ایک بات بھی نہیں کی۔بلکہ وہ نئے حکمرانوں کو یہ دعا دے کر رخصت ہوئے کہ وہ ملک کی ڈوبتی کشتی کو بچا سکیں۔

About Yasir Imran

Yasir Imran is a Pakistani living in Saudi Arabia. He writes because he want to express his thoughts. It is not necessary you agree what he says, You may express your thoughts in your comments. Once reviewed and approved your comments will appear in the discussion.
This entry was posted in Just-Shared and tagged , , , , , , , , , . Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s