صدر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک


صدر نے قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کی شام پانچ بجے طلب کر لیا ۔اجلاس میں حکمراں اتحاد صدر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کرے گا۔نواز شریف ذاتی اور انتقامی سیاست کررہے ہیں ۔ صدرمشرف۔اپ‌ڈیٹ:

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔9اگست۔2008ء)صدر پرویز مشرف نے قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کی شام پانچ بجے طلب کر لیا ہے ۔وزارت پارلیمانی امور کی جانب سے قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کے لئے صدر مملکت کو گزشتہ روز سمری ارسال کر دی گئی تھی۔جس پر رات گئے صدر مملکت نے دستخط کئے ۔قومی اسملبی کے اس اجلاس میں پہلے مرحلے پرحکمراں اتحاد صدر پرویز مشرف کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد پیش کرے گاجس کے بعد ان کے مواخذے کی تحریک پیش کی جائے گی۔

قومی اسمبلی کے اجلاس سے قبل حکومت اور اوپوزیشن کی پارلیمانی پارٹیوں کے اجلاس بھی طلب کر لئے گئے ہیں۔ادھرصدر مشرف نے کہاہے کہ وہ پارلیمنٹ نہیں توڑیں گے اور مواخذہ کا سامنا کرینگے ، نواز شریف ذاتی اور انتقامی سیاست کررہے ہیں ، حکمران جماعت مفاہمت کا راستہ اختیار کرے ، ایک پارٹی کی خواہش پر ملکی صورتحال خراب نہ کرے ، جبکہ چوہدری شجاعت نے صدر کو مشورہ دیا کہ مواخذے کا سامنا کریں یا باعزت طور پر مستعفی ہو جائیں ، پاکستان مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے ایوان صدر میں صدر مشرف سے ہفتہ کو طویل ملاقات کی ، جس میں حکمران جماعت کی طرف سے مواخذے کی تحریک سامنے آنے کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا ، ملاقات کے دوران صدر مشرف کے قریبی ساتھی چوہدری شجاعت نے بھی انہیں مستعفی ہونے کا مشورہ دیا ، ملاقات کے دوران صدر مشرف نے کہا کہ انہوں نے اس ملک پر کوئی ڈاکہ نہیں ڈالا اور نہ ہی کوئی کرپشن کی ، بلکہ پورے خلوص کے ساتھ اس ملک کی خدمت کی ہے ، صدر مشرف نے کہا کہ ان کے اوپر آئین کے خلاف جو الزام لگائے گئے ہیں وہ بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی ہیں ، تین نومبر کے اقدامات قومی سلامتی کا تقاضا تھے ، وہ اقدامات ملک اور جمہوریت کو بچانے کیلئے کئے گئے تھے ، انہوں نے کہا کہ وہ کسی بھی صورت پارلیمنٹ نہیں توڑیں گے اورمواخذے کا مقابلہ کرینگے ، صدر مشرف نے ملاقات میں یہ بھی واضح کیا کہ وہ 58 ٹو بی کا استعمال نہیں کرینگے اور مواخذے کا جمہوری روح سے مقابلہ کرینگے، انہوں نے کہا کہ فیصلہ کرنے سے پہلے دیکھنا چاہتا ہوں کہ حکمران جماعت ان کے خلاف کون کونسے الزامات لگاتے ہیں ، اس کے بعد صورتحال کا جائزہ لے کر مستقبل کا فیصلہ کرینگے ، صدر مشرف نے نواز شریف کے حوالے سے کہا کہ شروع دن سے نواز شریف اس جمہوری نظام کے خلاف تھے کیونکہ نواز شریف ذاتی اور انتقامی سیاست کررہے ہیں اور مسلم لیگ ن کے مطالبات کی وجہ سے ہی ملکی صورتحال خراب ہو رہی ہے ، صدر نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ اتحادی جماعتیں مفاہمت کا راستہ اختیار کریں اور کسی ایک جماعت کیلئے ملکی صورتحال خراب نہ کریں ، ملاقات میں مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت نے کہا کہ اسمبلی تحلیل کی گئی تو مسلم لیگ ق اس اقدام کی حمایت نہیں کریگی ، انہوں نے کہا کہ اس وقت 58 ٹو بی کیلئے حالات سازگار نہیں ہے، مواخذے کی تحریک کا صدر مشرف نے سامنا کیا تو بھرپور تعاون کرینگے ، انہوں نے صدر مشرف کو مشورہ دیا کہ وہ مواخذے کا سامنا کریں یا باعزت طور پر مستعفی ہو جائیں کیونکہ اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے ۔

About Yasir Imran

Yasir Imran is a Pakistani living in Saudi Arabia. He writes because he want to express his thoughts. It is not necessary you agree what he says, You may express your thoughts in your comments. Once reviewed and approved your comments will appear in the discussion.
This entry was posted in News and tagged , . Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s