ڈاکٹر عافیہ صدیقی امریکی عدالت میں پیش ،عدالت کی طرف سے لگائے جانے والے الزامات سے انکار


ڈاکٹر عافیہ صدیقی امریکی عدالت میں پیش ،عدالت کی طرف سے لگائے جانے والے الزامات سے انکار:

نیو یارک(اردوپوائنٹ اخبا ر تازہ ترین06 اگست2008 ) القاعدہ سے مبینہ تعلق کے شبے میں گرفتار پاکستان نڑاد امریکی شہری ڈاکٹر عافیہ صدیقی کوگزشتہ روز ایک امریکی عدالت کے سامنے پیش کیاگیا ہے جہاں انہوں نے اپنے خلاف لگائے گئے الزامات سے انکار کیا ہے۔امریکی عدالت نے پاکستانی نژاد امریکی نیورو سرجن ڈاکٹر عافیہ کے خلاف فرد جرم عائد کردی ہے۔ڈاکٹر عافیہ کو منگل کو نیو یارک کی عدالت میں پیش کیا گیا اور ان کے خلاف لگائے الزامات انہیں سنائے گئے۔ عدالت میں ڈاکٹر عافیہ بہت کمزور نظر آ رہی تھیں۔ انہوں نے اپنے خلاف لگائے گئے الزامات سے انکار کیا۔

ڈاکٹر عافیہ کے مقدمے کی باقاعدہ سماعت 19 اگست کو ہو گی۔وہ جب عدالت میں داخل ہوئیں تو لنگڑا کر سہارے سے چل رہی تھیں۔ جج نے انہیں کرسی پر بیٹھے رہنے کی اجازت دی اور الزامات پڑھ کرسنائے ۔جج نے کہا کہ ان پر امریکی فوجیوں پر گولی چلانے اور انہیں ہلاک کرنے کی سازش کا الزام ہے۔ عدالت نے ڈاکٹر عافیہ کی وکیل سے پوچھا کہ کیا وہ درخواست ضمانت پر بحث کے لیے تیار ہیں جس پر وکیل صفائی نے کہا کہ انہوں نے تیاری نہیں کی ہے۔ جج نے ضمانت کی درخواست پر سماعت کے لیے 11اگست کی تاریخ دے دی۔ وکیل صفائی نے جج سے درخواست کی کہ ان کی موکلہ زخمی ہیں جس پر عدالت نے ڈاکٹر عافیہ کے معائنے اور طبی امداد کی فراہمی کی ہدایت کی۔ وکیل صفائی کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کے خلاف امریکی حکومت کا کیس انتہائی ناقص اور کمزور ہے۔پیشی کے موقع پر پاکستانی سفارت خانے کا کوئی اہلکار موجود نہیں تھا

نیویارک میں ایف بی آئی اور نیویارک کے پولیس کمشنر ریمنڈ کیلی کی طرف سے جاری کیئے جانے والے ایک بیان میں کہاگیا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کو ایک ماہ قبل افغانستان میں غزنی کے صوبے سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر عافیہ پر الزام ہے کہ انہوں نے اٹھارہ جولائی کو ایف بی آئی اور امریکی فوجیوں کی ایک تفتیشی ٹیم پر ایک فوجی کی بندوق چھین کر فائرنگ کر دی تھی۔ اس ٹیم میں شامل ایک امریکی فوجی کی جوابی فائرنگ اور اس کے بعد کشمکش میں ڈاکٹر عافیہ زخمی ہو گئی تھیں۔ اس بیان کے مطابق ڈاکٹر عافیہ ایف بی آئی کو کافی عرصے سے دہشت گردی کے الزامات میں مطلوب تھیں۔ اس بیان میں دی گئی تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر عافیہ کو غزنی میں گورنر کی رہائش گاہ کے احاطے سے افغان پولیس نے گرفتار کیا تھا۔اس بیان میں کہا گیا ڈاکٹر عافیہ ایک کمرے میں بند تھیں۔ جب ان سے تفتیش کے لیے ایف بی آئی اور امریکی فوجیوں کی ایک ٹیم پہنچی تو انہوں نے پردے کے پیچھے سے ان پر دو گولیاں چلائیں لیکن وہ کسی کو نشانہ نہ بنا سکیں۔واضح رہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی اپنے تین بچوں کے ہمراہ 30مارچ 2003کو کراچی سے راولپنڈی جانے کے لیے روانہ ہوئی تھیں تاہم اس کے بعد وہ لاپتا ہوگئی تھیں۔36 سالہ ڈاکٹر عافیہ امریکہ سے تعلیم یافتہ ہیں اور مبینہ طور پر القاعدہ کی رکن ہیں۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ڈاکٹر عافیہ اور ان کے تین بچوں کو پاکستان میں گرفتار کیا گیا تھا۔ 2004 میں اس وقت کے امریکی اٹارنی جنرل ایشکرافٹ اور ایف بی آئی کے ڈائریکٹر رابرٹ مولر نے ڈاکٹر عافیہ کو القاعدہ کے ان ارکان میں شامل کیا تھا جو کہ امریکہ کو دہشت گردی کے الزامات میں مطلوب تھے۔

06/08/2008 14:20:18 : وقت اشاعت

Qutoe from Urdupoint.com

http://www.bbc.com/urdu/

Wednesday, 06 August, 2008, 09:56 GMT 14:56 PST

حسن مجتبیٰ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نیویارک

عافیہ کا عدالت میں ایک دن

’اتنی جلدی تو آدمی (نیویارک میں) برانکس سے مینہٹن نہیں پہنچ پاتا جتنے وقت میں آپ لوگ مدعاعلیہ کو افغانستان سے نیویارک لے آئے ہیں۔‘

وکیل عافیہ صدیقی

یور آنر عافیہ صدیقی کھڑی نہیں ہوسکتی : وکیل عافیہ صدیقی

یہ تھے جج ایلس کے الفاظ جو انہوں نے پاکستانی شہری نیورو سائنسدان اور مبینہ طور ال‍قاعدہ سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے مقدمے کی سماعت کے دوران کہے۔

گزشتہ پانچ برسوں سے لاپتہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو منگل کی شام نیویارک کی عدالت یونائٹیڈ سٹیٹس کورٹ سدرن ڈسٹرکٹ میں پیش کیاگیا- عافیہ صدیقی کی کسی امریکی عدالت میں پہلی پیشی تھی۔

یونائیٹیڈ سٹیٹس آف امریکہ بنام عافیہ صدیقی کی کارروائی کی رپورٹنگ کرنے کے ذرائع ابلاغ کے نمائندے وہاں موجود تھے۔

ایک عدالتی اہلکار نے عدالت میں لوگوں کے داخلے کو منظم کرنے کے لیے اعلان کیا کہ’ سب سے پہلے سکیچ آرٹسٹس، پھر فیملیاں، پھر میڈیا کے لوگ اور پھر قانون نافذ کرنے والے۔‘

عدالتی کارروائی شروع ہوئی۔ مدعاعلیان آتے رہے، پیش کیے جاتے رہے- خواتین آرٹسٹ مدعاعلیان کے سکیچ بنانے کے موقع پر ان کو دور بین اٹھا کر دیکھتی رہیں-

اتنے میں ایک خاتون عدالت میں داخل ہوتی ہیں جن کے ہاتھ میں فائل ہے جس پر عافیہ صدیقی لکھا ہوا ہے۔اسی دوران ایف بی آئي اور پولیس والے عافیہ صدیقی کو کمرہ عدالت میں لائے-

عافیہ صدیقی اپنی وکیل اور وفاقی ایجنٹوں کے سہارے سے چل رہی تھیں- سچی بات تو ہے کہ ایک ہڈیوں کی گٹھری بنی عورت، لاغر اور کمزور۔ اس کی دونوں وکیل اسے سہارا دیکر کرسی پر بٹھانے لگے- سر پر سرخ رنگ کا سکارف یا حجاب، نیلے رنگ کی قمیص اور لمبے سکرٹ میں ملبوس عافیہ صدیقی کو کرسی پر بیٹھنے میں کچھ منٹ لگ گئے۔ ان کی وکیل نے کہا کہ ان کی مؤکل پاکستانی قونصلر سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتی ہیں-

جب عدالت کی کارروآئی شروع ہوتی ہے- تو جج نے کہا’عافیہ صدیقی کھڑی ہوجائیں۔‘

عافیہ صدیقی کی وکیل الزبتھ فنک نے عدالت کو بتایا’ ‘یور آنر وہ کھڑی نہیں ہوسکتیں- وہ زخمی ہیں- انہی گولی کا زخم ہے۔ عافیہ صدیقی کی دوسری وکیل وکیل اییلین وٹفیلڈ شارپ بھی موجود تھی-

مترجم مہیا ہونے کے باوجود عافیہ صدیقی نے جج کے انگریزي زبان میں سوالوں کے انگریزي زبان میں ہی جوابات دیتی رہیں۔

جج نے عافیہ صدیقی سے پوچھا ’کیا تم جانتی ہو کہ حکومتِ امریکہ نے ایک کرمنل کمپلینٹ میں تم پر کیا الزام لگایا ہے۔‘

’یس‘ عافیہ صدیقی نے نخیف آواز میں جواب دیا۔

جج نے ایف بی آئی کیطرف سے عافیہ صدیقی کیخلاف داخل کردہ فوجداری مقدمے کی تفصیلات پڑھ کر سنائیں۔

ان تفصیلات کے مطابق عافیہ صدیقی نے چودہ جولائی دو ہزار آٹھ کو افغانستان میں بتائي گئی گرفتاری سے لیکر امریکی اہلکاروں پر تین اگست دو ہزار آٹھ کو ایم فور رائفل سے تھانے کے اندر حملے اور پھر زخمی اور گرفتار ہونے واقعات بیان کیے۔

عدالت نے عافیہ صدیقی کے وکلاء کی طرف سے اٹھائے جانیوالے سوالوں کا جواب سرکار ی استغاثہ کی طرف سے مقدمے کی سماعت تک مؤخر رکھاگيا-

عافیہ صدیقی کیخلاف امریکی حکومت کیطرف سے داخل کردہ کرمنل کمپلینٹ میں کہا گيا ہے کہ انہیں تین اگست کو افغانستان میں امریکی اہلکاروں پر حملہ کرنے کے اور ان کی طرف سے جوابی فائرنگ میں زخمی ہونے کے بعد گرفتار ہوئي اور چار اگست کو انہیں سیدھا نیویارک لایا گيا-

عافیہ پر حکومت امریکہ کے سول و فوجی اہلکاروں پر مبینہ طور قاتلانہ حملہ کرنے کا ا لزام لگایا ہے۔

عافیہ صدیقی کی وکیل الزبیتھ فنک نے عدالت سے سوال کیا کہ کیا عدالت سمجھتی ہے یہ نوے پاونڈ کی عورت ایم فور رائفل امریکی فوجی کے بوٹوں کے بیچ سے اٹھا کر ان پر فائر کر سکتی ہے- اور یہ بڑی مضحکہ خیز تہمت ہے-

وکیل نےکہا کہ عافیہ صدیقی کے بارے میں جو کچھ کہا جا رہا ہےوہ سب کچھ سنی سنائی باتوں پر مبنی ہے-

’ اس ایجنٹ نے بھی انہی باتوں کی بنیاد پر مدعاعیلہ کیخلاف نیویارک میں بیٹھ کر کیس بنایا ہے- پانچ ہزار میلوں پرے جو افغانستان میں ہے اسے بیٹھ کر اس ایجنٹ نے نیویارک میں کیسے دیکھا؟ وکیل الزبتھ جج سے مخاطب تھیں-

وکیل الزبیتھ نے کہا کہ انہوں نےمنگل کے روز پہلی بار عافیہ صدیقی کو دیکھا ہے اور عافیہ صدیقی اتنے برسوں بعد ’غیر حکومتی آدمی سے پہلی بار مل رہی ہے اور یہ سب سے بڑی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے-‘

بہرحال وکیل الزبتھ نے کہا کہ بتایا جاتا ہے کہ خالد شیخ محمد نے اپنی تفتیش کے دوران عافیہ صدیقی کا نام لیا تھا جبکہ اس سے قبل بائیو ٹیرزم یا حیاتیاتی دہشتگردی میں اس کا کوئي تعلق نہیں رہا-

یو ایس ڈسٹرکٹ کورٹ ساوتھ ڈسٹرکٹ کے جج ایلس نے عافیہ کیخلاف گواہیاں لانے کیلیے امریکی حکومت کو دس دن کی مہلت دیتے ہوئے مدعاعیلہ پر واضح کیا کہ انیس اگست کو اس مقدمے کی ابتدائي سماعت ہوگي- عدالت گیارہ اگست کو عافیہ صدیقی کی ضمانت کی درخواست کی سماعت کرے گی۔

عدالت نے وکیل کی درخواست پر عافیہ صدیقی کا علاج کروانے کا حکم دیا۔ عافیہ صدیقی کی وکیل الزبتھ فنک نے عدالت کو بتایا کہ عافیہ صدیقی کی کمر پر گولی کا زخم ہے اور وہ نہایت ہی تکلیف میں ہے۔

اس موقع پر عافیہ صدیقی نے وکیل میڈیا کو کہ پاکستانی حکومت نے امریکی محکمہ خارجہ سے عافیہ صدیقی کو آزاد کرنے اور اس سے ملنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔

عدالت کی عمارت کےباہر عافیہ کی دونوں وکیلوں نے ایک پرہجوم پریس کانفرنس میں کہا کہ عافیہ نے اپنے اوپر لگائے تمام الزامات کو مسترد کیا ہے۔


About Yasir Imran

Yasir Imran is a Pakistani living in Saudi Arabia. He writes because he want to express his thoughts. It is not necessary you agree what he says, You may express your thoughts in your comments. Once reviewed and approved your comments will appear in the discussion.
This entry was posted in News and tagged , , , , , , . Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s