ڈاکٹر عافیہ بگرام بیس میں قید


Dr. Afia Siddiqui

Dr. Afia Siddiqui

حقوق انسانی کی ایک تنظیم نے لاپتہ پاکستانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی افغانستان کے ایک امریکی فوجی مرکز میں ممکنہ موجودگی کی تحقیقات کرنے کے لپے اقوام متحدہ سے اپیل کی ہے۔

ایشیائی ہیومن رائٹس کمیشن نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پانچ سال قبل اپنے بچوں سمیت کراچی سے لاپتہ ہونے والی ڈاکٹر عافیہ صدیقی، جنہوں نے امریکہ میں تربیت حاصل کی تھی، بگرام میں واقعہ امریکی جیل میں قید ہیں اور وہاں واحد خاتون قیدی ہونے کی وجہ سے اذیت ناک زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

ڈاکٹر عافیہ امریکی تحقیقاتی اداروں کو مطلوب ہیں اور ان پر القاعدہ کا رکن ہونے اور امریکہ پر دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام ہے۔

’کیا ہم غیر معینہ مدت تک انتظار کریں‘

گمشدگی کے فوراً بعد امریکی اور پاکستانی خفیہ اداروں نے انکی گرفتاری کی تصدیق کی تھی تاہم بعد میں ڈاکٹر عافیہ کے بارے میں سرکاری سطح پر لا علمی کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔

مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی اطلاعات کی بنیاد پر حقوق انسانی کی تنظیم نے قید خانے میں ڈاکٹر عافیہ کے شب و روز کی ہولناک تصویر کشی کی ہے۔

اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ، اور لاپتہ افراد اور خواتین کے خلاف تشدد کے حوالے سے قائم دیگر بین الاقوامی اداروں کو بھیجی جانے والی یادداشت میں دعوی کیا گیا ہے کہ اس بات کے کافی شواہد ملے ہیں کہ بگرام جیل کی قیدی نمبر چھ سو پچاس ڈاکٹر عافیہ ہی ہیں۔

جیل انتظامیہ بگرام جیل میں کسی خاتون قیدی کی موجودگی کی تردید کر چکی ہے۔

تاہم اس رپورٹ میں اپنے ذرائع کے حوالے سے الزام لگایا گیا ہے کہ بگرام ائر بیس میں ڈاکٹر عافیہ پر اس قدر تشدد کیا گیا ہے کہ وہ ذہنی توازن کھو چکی ہیں۔

رپورٹ میں برطانوی رکن پارلیمنٹ لارڈ نذیر احمد کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اس خاتون کو جیل کے عملے کی جانب سے مسلسل جنسی زیادتی کا شکار بنایا جاتا ہے۔ اور قیدی نمبر چھ سو پچاس کے نام سے مشہور اس خاتون کو نہانے اور دیگر ضروریات کے لیے مردانہ غسل خانہ استعمال کرنا پڑتا ہے جس میں پردے کا کوئی بندوبست نہیں ہے۔

رپورٹ میں ایک برطانوی صحافی وون ریڈلے کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جس نے اس خاتون کو ’جیل میں قید ایک بھوت‘ سے تشبیہ دی ہے جس کی کوئی شناخت نہیں ہے لیکن اسکی چیخیں ان لوگوں کا پیچھا کرتی رہتی ہیں جو انہیں ایک بار سننے کا تجربہ کر چکے ہوں۔

ایشیائی ہیومن رائٹس کمیشن نے اقوام متحدہ اور حقوق انسانی کی دیگر تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بگرام جیل کی قیدی نمبر چھ سو پچاس کی شناخت اور حالات کو منظر عام پر لانے کے لیے مداخلت کریں۔

About Yasir Imran

Yasir Imran is a Pakistani living in Saudi Arabia. He writes because he want to express his thoughts. It is not necessary you agree what he says, You may express your thoughts in your comments. Once reviewed and approved your comments will appear in the discussion.
This entry was posted in News and tagged , , , . Bookmark the permalink.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s